اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ثالث کے طور پر اپنی توثیق شامل کی ہے۔ یہ یادداشت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کو بحال کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ عشائیے کے موقع پر اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ بعد ازاں امریکی حکام نے بھی معاہدے کی تکمیل کی تصدیق کی۔
Islamabad :18 June 2026.
Prime Minister of Pakistan Muhammad Shehbaz Sharif signed the Islamabad Memorandum of Understanding (Islamabad MoU)، as mediator.
The Islamabad MOU has been signed by President of USA Donald J. Trump and Iranian President Masoud Pezeshkian. pic.twitter.com/M0LKK9XoK8
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) June 18, 2026
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے صدر مسعود پزشکیان کی تصاویر جاری کیں جن میں وہ یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے بھی اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا مقصد فوری تنازعات میں کمی لانا اور ایک جامع معاہدے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے بلکہ خطے کے امن اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔