بینظیر انکم سپورٹ پروگرام

بلاول بھٹو نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو معیشت کیلئے ناگزیر قرار دے دیا

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے معیشت اور قومی سلامتی کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام پر تنقید افسوسناک ہے اور اس کی کامیابیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو عالمی اداروں کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ کم آمدنی والے خاندانوں کی مدد کرنے میں مؤثر ثابت ہوا ہے اور اسے محدود کرنے کے بجائے مزید وسعت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص فنڈز میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ ایسے فلاحی منصوبوں کی حمایت کرے گی جو عوامی بہبود اور غربت کے خاتمے میں مددگار ہوں۔

خطاب کے دوران بلاول نے معاشی ترقی اور سماجی انصاف کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدور اور کسان کی ترقی کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے عوامی فلاح پر توجہ دینا ضروری ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن اور استحکام سرمایہ کاری میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے افغانستان کی سرحدی صورتحال اور بھارت کے ساتھ کشیدگی سمیت مختلف علاقائی چیلنجز کا ذکر کیا۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام حکومتیں قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے مشترکہ ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی حقوق کے مطالبے کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا دیرپا حل قومی اتفاق رائے سے ممکن ہے۔ ان کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور گلگت بلتستان کے آئینی حقوق دونوں ایسے اقدامات ہیں جو قومی یکجہتی اور پائیدار ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین