وسطی افریقی ملک چاڈ میں قائم سوڈانی پناہ گزین کیمپوں سے متعلق ایک داخلی تحقیق میں خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے مبینہ جنسی استحصال کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض امدادی کارکنوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ضرورت مند پناہ گزینوں کو استحصال کا نشانہ بنایا۔
تحقیقات کے مطابق متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کو خوراک، صاف پانی، ملازمتوں اور دیگر امدادی سہولیات کے بدلے جنسی تعلقات پر مجبور کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ یہ انکشافات انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔
رپورٹ میں مجموعی طور پر 59 شکایات درج کی گئی ہیں جن میں مختلف نوعیت کے بدسلوکی اور استحصال کے الزامات شامل ہیں۔ شکایات سامنے آنے کے بعد متعلقہ اداروں نے معاملے کی جامع تحقیقات کا آغاز کیا تاکہ حقائق کا تعین کیا جا سکے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
تحقیقات کے نتیجے میں 18 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ انہیں مستقبل میں دوبارہ ملازمت حاصل کرنے کے لیے بھی نااہل قرار دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام متاثرین کے حقوق کے تحفظ اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
تحقیقی رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض واقعات محض انفرادی بدسلوکی تک محدود نہیں تھے بلکہ ممکنہ طور پر منظم جنسی استحصال یا انسانی اسمگلنگ کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ اس پہلو نے عالمی سطح پر تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ایم ایس ایف جسے ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز بھی کہا جاتا ہے، نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے نظام اور نگرانی کے طریقہ کار میں سنگین خامیاں موجود تھیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کے تحفظ اور شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے مزید مضبوط اقدامات کی ضرورت ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور امدادی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے، ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور پناہ گزین کیمپوں میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے سخت نگرانی اور احتسابی نظام نافذ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔