اسلام آباد: سپریم کورٹ ملازمین کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے کیونکہ چیف جسٹس پاکستان نے ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت نئے الاؤنسز کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 1 سے 6 تک کے ملازمین کا یوٹیلیٹی الاؤنس 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 12 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح گریڈ 7 سے 10 تک کے ملازمین کو اب 8 ہزار روپے کے بجائے 16 ہزار روپے یوٹیلیٹی الاؤنس دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ انتظامیہ نے گریڈ 11 سے 15 تک کے ملازمین کے لیے بھی الاؤنس میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان ملازمین کا یوٹیلیٹی الاؤنس 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے ماہانہ مقرر کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں مہنگائی کے موجودہ دباؤ سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 16 کے افسران کا الاؤنس 12 ہزار سے بڑھا کر 24 ہزار روپے، گریڈ 17 کے افسران کا 15 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے جبکہ گریڈ 18 کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس 18 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح گریڈ 19 کے افسران کے لیے الاؤنس 21 ہزار سے بڑھا کر 42 ہزار روپے، گریڈ 20 کے افسران کے لیے 24 ہزار سے بڑھا کر 48 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ گریڈ 21 اور اس سے اوپر کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 60 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یوٹیلیٹی الاؤنس میں گیس اور بجلی کے اخراجات شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ملازمین کو بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بلز کے بوجھ سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اس اضافے سے پیدا ہونے والے مالی اخراجات مالی سال 2026-27 کے منظور شدہ بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔