چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو ایک تاریخی پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کے بجائے مذاکرات ہمیشہ بہتر راستہ ثابت ہوتے ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت اس بات کی مثال ہے کہ پیچیدہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب امن قائم ہوتا ہے تو معیشت مضبوط ہوتی ہے، سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ملک کا وقار بلند کیا ہے۔ بلاول نے صدر آصف علی زرداری کی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی خبروں کے باوجود بعض عناصر خطے میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے حوالے سے خدشات کا بھی ذکر کیا اور قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
بلاول بھٹو نے بجٹ سے قبل پھیلائی جانے والی بعض افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے آئینی حقوق محفوظ ہیں۔ ان کے مطابق اٹھارویں ترمیم اور سماجی فلاحی پروگراموں کے بارے میں کئی غلط اطلاعات سامنے آئیں، تاہم مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کا نظام محفوظ ہے اور صوبوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبائی حکومتوں کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مل کر معاشی اور انتظامی چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ غربت میں کمی اور معاشی استحکام کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت ثابت کرتی ہے کہ مکالمہ اور تعاون کے ذریعے بڑے مسائل کا حل ممکن ہے اور قومی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔