جاپانی مردوں کے گھریلو کام

اسٹیڈیم صاف کرنے کی تعریف کے بعد جاپانی مردوں کو گھر میں بھی مدد کا مشورہ

جاپانی مردوں کے گھریلو کام میں کردار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ جاپانی فٹبال شائقین کی جانب سے میچ کے بعد اسٹیڈیم کی صفائی کی تصاویر دنیا بھر میں سراہا گئیں اور فیفا نے بھی ان کے طرزِ عمل کی تعریف کی۔

نیلے لباس میں ملبوس شائقین کو کوڑا کرکٹ اٹھاتے اور نشستوں کے اطراف صفائی کرتے دیکھا گیا۔ ان تصاویر کو جاپانی ثقافت میں نظم و ضبط، سماجی ذمہ داری اور دوسروں کے احترام کی علامت قرار دیا گیا۔

تاہم اس تعریف کے ساتھ ایک نئی بحث نے بھی جنم لیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بہت سے جاپانی مرد عوامی مقامات پر صفائی تو کرتے ہیں لیکن گھروں میں گھریلو کاموں میں اتنا حصہ نہیں لیتے۔

اس پوسٹ نے لاکھوں افراد کی توجہ حاصل کی اور جاپان میں مردوں اور خواتین کے درمیان گھریلو ذمہ داریوں کی تقسیم پر بحث دوبارہ شروع ہوگئی۔ کئی صارفین نے اس موضوع پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں خواتین خریداری، صفائی، بچوں اور بزرگوں کی دیکھ بھال سمیت دیگر غیر معاوضہ گھریلو کاموں میں مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت صرف کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپانی مردوں کے گھریلو کام سے متعلق بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسٹیڈیم کی صفائی ایک مثبت اور قابلِ تعریف عمل ہے، لیکن معاشرتی ذمہ داری کا مظاہرہ گھر کے اندر بھی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق گھریلو ذمہ داریوں میں مساوی شرکت ایک اہم سماجی ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا پر اس معاملے پر رائے منقسم رہی۔ بعض صارفین نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگر مرد گھر میں بھی فٹبال ٹیم کی جرسی پہن لیں تو شاید زیادہ صفائی کریں، جبکہ دیگر نے کہا کہ تمام جاپانی مردوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ یہ بحث جاپان میں بدلتے سماجی رویوں اور خاندانی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین