پاکستان میں بچوں سے مشقت

پاکستان میں 86 لاکھ سے زائد بچے مشقت پر مجبور، نئی رپورٹ میں انکشاف

ایک نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بچوں سے مشقت ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جہاں 86 لاکھ سے زائد بچے مختلف اقسام کے کاموں میں مصروف ہیں۔ یہ رپورٹ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) اور UNICEF نے مشترکہ طور پر جاری کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 66 لاکھ سے زائد بچے خطرناک نوعیت کے کام انجام دے رہے ہیں، جس سے ان کی صحت، تعلیم اور مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے کام بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے شدید خطرات پیدا کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں بچوں سے مشقت کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ صوبے میں تقریباً 60 لاکھ سے زائد بچے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جس کے باعث پنجاب اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار دیا گیا ہے۔

سندھ میں تقریباً 16 لاکھ بچے مزدوری میں مصروف پائے گئے جبکہ خیبر پختونخوا میں 7 لاکھ 45 ہزار سے زائد بچے کام کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں بھی دو لاکھ سے زائد بچوں کے مزدوری میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد میں بھی ہزاروں بچے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غربت پاکستان میں بچوں سے مشقت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ معاشی مشکلات کے باعث بہت سے خاندان بچوں کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ والدین کی کم تعلیمی سطح بھی اس مسئلے کو بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ بچوں کی بڑی تعداد گھروں، کھیتوں اور خاندانی کاروباروں میں کام کرتی ہے۔ چونکہ یہ سرگرمیاں اکثر سرکاری نگرانی سے باہر ہوتی ہیں، اس لیے ان کی نشاندہی اور روک تھام مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

رپورٹ کے اجرا کے موقع پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے غربت میں کمی، بہتر تعلیمی سہولیات اور مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین