غزہ جنگ بندی خلاف ورزیاں

پاکستان کا غزہ میں جاری جنگ بندی خلاف ورزیوں اور انسانی بحران پر اظہار تشویش

پاکستان نے غزہ جنگ بندی خلاف ورزیاں اور وہاں پیدا ہونے والے سنگین انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ شہریوں کو تحفظ اور امداد فراہم کی جا سکے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی تنظیموں اور امدادی اداروں کی کوششیں مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد انسانی صورتحال میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن تقریباً 2 کروڑ افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں جنہیں خوراک، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

پاکستانی مندوب نے فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رفح سمیت تمام سرحدی راستے کھولے جائیں تاکہ امداد، طبی انخلا اور تجارتی سامان کی ترسیل ممکن ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ کی 90 فیصد سے زائد آبادی بے گھر ہو چکی ہے جبکہ نصف سے کم اسپتال جزوی طور پر فعال ہیں۔ روزانہ خوراک کی فراہمی بھی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے جس سے بھوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان نے خبردار کیا کہ ناقص صفائی، بھیڑ اور طبی سہولیات کی کمی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے جبکہ ایک ملین سے زائد بچے غذائی قلت اور تعلیم سے محرومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

آخر میں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور جنگ بندی معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق غزہ جنگ بندی خلاف ورزیاں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین