حکومت نے پاکستان ای پاسپورٹ نظام کی جانب مکمل منتقلی سمیت پاسپورٹ کے شعبے میں اہم اصلاحات کی منظوری دے دی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد جعلسازی اور فراڈ کی روک تھام، شفافیت میں اضافہ اور شہریوں کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
یہ فیصلے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے جس کی صدارت وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔ نئی پالیسی کے تحت پاسپورٹ کے اجرا کا نظام مکمل طور پر الیکٹرانک طریقہ کار کی جانب منتقل کیا جائے گا۔
اصلاحاتی منصوبے کے مطابق آن لائن پاسپورٹ درخواستوں کو پاک آئی ڈی پلیٹ فارم پر منتقل کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے درخواست دینے کا عمل مزید آسان، تیز اور مؤثر ہو جائے گا۔
حکومت نے پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس نظام نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یکم جولائی سے تمام پاسپورٹ دفاتر میں ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے کی جائیں گی، جس سے شفافیت اور انتظامی کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
وزارت داخلہ نے ملک کے اندر اور بیرون ملک پاسپورٹ ہوم ڈلیوری سروس کے ابتدائی فریم ورک کو بھی حتمی شکل دے دی ہے۔ اس سہولت کے ذریعے شہری اپنے پاسپورٹ براہ راست گھر پر وصول کر سکیں گے۔
علاوہ ازیں، کاروباری افراد کے لیے ایک نئی بزنس پاسپورٹ پالیسی بھی تیار کی جا رہی ہے، جس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کاروباری مسافروں کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنا ہے۔
یہ تمام اصلاحات پہلے سے جاری ڈیجیٹل اقدامات کا تسلسل ہیں، جن میں شِکرا (SHIKRA) مانیٹرنگ سسٹم کا اجرا بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق یہ نظام پاسپورٹ درخواست سے لے کر حتمی ترسیل تک پورے عمل کی 24 گھنٹے نگرانی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ای پاسپورٹ منصوبہ ملک میں جدید اور محفوظ سفری دستاویزات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔