پاکستان نے مبینہ انڈس واٹرز ٹریٹی کی خلاف ورزیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے اٹھاتے ہوئے عالمی برادری سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا خط سلامتی کونسل کی جون کے مہینے کی صدر لیونور زالاباتا ٹوریس کے حوالے کیا۔
خط میں پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت کے بعض اقدامات 1960 کے انڈس واٹرز ٹریٹی کے اصولوں اور شقوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دریائے چناب سے متعلق بعض منصوبے معاہدے کے تحت طے شدہ پانی کے نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
I just handed over a letter addressed by the DPM/FM @MIshaqDar50 to Ambassador Leonor Zalabata Torres, President of the UN Security Council for June 2026 and Permanent Representative of Colombia to the U.N. concerning India’s continued illegal actions and violations of the Indus… pic.twitter.com/4mhFjhOUrp
— Asim Iftikhar Ahmad, PR of Pakistan to the UN (@PakistanPR_UN) June 18, 2026
پاکستانی حکام کے مطابق ان منصوبوں سے پانی کے بہاؤ اور استعمال کے موجودہ انتظامات میں تبدیلی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسی صورتحال زرعی پیداوار، آبی وسائل اور ملکی معیشت پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
خط میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور صورتحال پر توجہ دے۔ پاکستان نے اس مسئلے کو علاقائی استحکام اور تعاون کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
اس موقع پر سفیر عاصم افتخار احمد نے جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال پر بھی بریفنگ دی۔ اطلاعات کے مطابق بات چیت میں جموں و کشمیر تنازع اور اس سے متعلق بین الاقوامی قراردادوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق انڈس واٹرز ٹریٹی کی خلاف ورزیاں اور پانی کے وسائل کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایک اہم موضوع رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون اور معاہدے پر عملدرآمد خطے کے امن اور استحکام کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔