امریکہ ایران مذاکرات

لبنان کی صورتحال کے باعث امریکہ ایران مذاکرات مؤخر، جنگ بندی عمل کو دھچکا

مجوزہ امریکہ ایران مذاکرات جو سوئٹزرلینڈ میں ہونے تھے، مؤخر کر دیے گئے ہیں جس کے بعد حال ہی میں طے پانے والے جنگ بندی فریم ورک کے مستقبل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد معاہدے پر عملدرآمد کے تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینا تھا۔

سوئس حکام کے مطابق امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندوں کے درمیان ہونے والا اجلاس مقررہ وقت پر منعقد نہیں ہو سکے گا۔ سوئٹزرلینڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کے لیے تیار ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کی جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث اپنا وفد روانہ کرنے میں تاخیر کی۔ تہران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ خطے میں استحکام اور لبنان کی صورتحال مذاکراتی عمل سے جڑی ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات حال ہی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی عملی تفصیلات طے کرنے کے لیے اہم سمجھے جا رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق ان کا مؤخر ہونا امن عمل کے لیے ابتدائی اور بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کے امریکہ ایران مذاکرات تہران کے قومی مفادات اور طے شدہ سرخ خطوط کے اندر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ادھر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک نے مصر میں مزید مشاورتی اجلاسوں کا انتظام کیا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جا سکے اور ممکنہ تعطل سے بچا جا سکے۔

مبصرین کے مطابق امریکہ ایران مذاکرات کی کامیابی اب بڑی حد تک لبنان کی صورتحال اور علاقائی فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوششوں پر منحصر ہے۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ جنگ بندی کا موجودہ فریم ورک برقرار رہتا ہے یا مزید چیلنجز کا سامنا کرتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین