پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق امریکہ ایران تکنیکی مذاکرات کا اگلا مرحلہ چند روز میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں مجوزہ تقریب منسوخ ہونے کے باوجود مذاکراتی عمل اپنی رفتار سے جاری رہے گا۔
حکام نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ پہلے ہی دستخط ہو چکا ہے، اس لیے الگ سے کسی رسمی تقریب کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اب توجہ معاہدے پر عملدرآمد اور آئندہ تکنیکی بات چیت پر مرکوز ہے۔
دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق تکنیکی مذاکرات معاہدے کے عملی پہلوؤں کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ دونوں ممالک ان امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے جن کے لیے خصوصی تکنیکی مشاورت درکار ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا وسیع مرحلہ محرم کے بعد متوقع ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی مسلسل سفارتی رابطہ کاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کا عزم برقرار ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ابتدائی منصوبے کے تحت سوئٹزرلینڈ میں ایک رسمی تقریب رکھی گئی تھی جہاں اعلیٰ سطحی نمائندے معاہدے کو حتمی شکل دیتے۔ تاہم بعد میں اعلیٰ قیادت کی جانب سے الیکٹرانک دستخط ہونے کے بعد اس تقریب کی ضرورت ختم ہوگئی۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا مجوزہ اجلاس امریکہ، ایران اور پاکستان کے سینئر نمائندوں کی شرکت کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ معاہدہ نافذ ہونے کے بعد تمام تر توجہ اب عملی اقدامات اور آئندہ مذاکرات پر مرکوز ہو گئی ہے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار مصر کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ حکام کے مطابق امریکہ ایران تکنیکی مذاکرات اپنے شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور آنے والے ہفتوں میں سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی متوقع ہے۔