آبنائے ہرمز تیل ترسیل بحال ہو گئی ہے، جس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے اثرات عالمی توانائی منڈی میں واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اہم سمندری راستے پر بحری سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ گئی ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں ختم کر دی ہیں، جس کے بعد خلیجی خطے میں جہاز رانی اور تیل کی ترسیل دوبارہ بحال ہو گئی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور توانائی کے شعبے میں سپلائی چین بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز تیل ترسیل بحال ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات کی کمپنی ADNOC نے داس اور زرکو جزائر سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے، جس سے سپلائی میں تیزی آئی ہے۔
عراق نے بھی تیل کی پیداوار اور برآمدات مرحلہ وار بحال کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کویت پیٹرولیم نے پہلے جاری کیے گئے روک تھام کے احکامات واپس لے لیے ہیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز تیل ترسیل بحال ہونے سے عالمی منڈی میں استحکام پیدا ہوگا اور قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کم ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے سپر ٹینکرز بھی بڑی مقدار میں خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جو اس اہم بحری راستے کی مکمل بحالی کی واضح علامت ہے۔