پولینڈ یوکرین MiG-29 منتقلی

پولینڈ کا یوکرین کو MiG-29 جنگی طیارے دینے سے انکار، ڈرون ٹیکنالوجی تنازع سامنے آ گیا

پولینڈ یوکرین MiG-29 منتقلی کا منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ پولینڈ کے وزیر دفاع وواڈیسواف کوسینیاک کامیش نے کہا ہے کہ وارسا یوکرین کو MiG-29 جنگی طیارے فراہم نہیں کرے گا کیونکہ کیف نے مبینہ طور پر طے شدہ ڈرون ٹیکنالوجی اور جنگی تجربات کا تبادلہ نہیں کیا۔ اس پیش رفت نے دونوں اتحادی ممالک کے تعلقات میں ایک نیا اختلاف پیدا کر دیا ہے۔

پولش وزیر دفاع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایک سمجھوتا ہوا تھا جس کے تحت یوکرین اپنے جنگی ڈرونز سے متعلق تجربات اور صلاحیتیں پولینڈ کے ساتھ شیئر کرے گا، جبکہ اس کے بدلے میں پولینڈ اپنے ریٹائر ہونے والے MiG-29 طیارے یوکرین کو منتقل کرے گا۔ ان کے مطابق یہ دفاعی تعاون کے لیے ایک اہم علامتی اقدام تھا۔

کوسینیاک کامیش نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے ابتدا میں اس تجویز سے اتفاق کیا لیکن بعد میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ڈرون ٹیکنالوجی سے متعلق تعاون نہیں ہوگا، پولینڈ یوکرین MiG-29 منتقلی بھی ممکن نہیں ہوگی۔ رپورٹ شائع ہونے تک یوکرینی حکام کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

پولینڈ کی جنرل اسٹاف نے دسمبر 2025 میں تصدیق کی تھی کہ دونوں ممالک چھ سے آٹھ MiG-29 جنگی طیاروں کی ممکنہ منتقلی پر بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ وہ طیارے تھے جنہیں پولینڈ اپنی فضائیہ سے مرحلہ وار ریٹائر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

وزیر دفاع نے ایک اور متنازع معاملے پر بھی بات کی اور یوکرین کی ایک فوجی یونٹ کو یوکرینی انسرجنٹ آرمی کے نام سے منسوب کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی تنازعات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یورپی تعاون کے خلاف سمجھی جانے والی شخصیات کو قومی ہیرو کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔

یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک فوجی یونٹ کو یوکرینی انسرجنٹ آرمی کے نام سے اعزازی خطاب دیا، جس پر پولینڈ میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ پولینڈ اس تنظیم کو دوسری جنگ عظیم کے دوران وولینیا قتل عام کے تاریخی تناظر میں دیکھتا ہے۔

اگرچہ پولینڈ اب بھی یوکرین کے اہم دفاعی اور سیاسی اتحادیوں میں شامل ہے، لیکن پولینڈ یوکرین MiG-29 منتقلی کا تعطل ظاہر کرتا ہے کہ دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ تاریخی اور سیاسی اختلافات بھی دوطرفہ تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین