ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران ایران کے قومی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے مؤقف پر قائم رہے گا اور کبھی بھی دشمنوں کی جانب سے مسلط کیے گئے مطالبات قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بات قم میں ایک دینی مدرسے کے علما سے ملاقات کے دوران کہی، جہاں انہوں نے ملکی پالیسی اور سفارتی حکمت عملی پر اظہار خیال کیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ حکومت نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات عزت، وقار اور مضبوط مؤقف کے ساتھ کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مقصد ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ اور ملک کے قومی مفادات کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔
مذاکرات سے متعلق سوالات کے جواب میں ایرانی صدر نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی صورت میں عوام کے حقوق، اپنے بنیادی اصولوں یا قومی مفادات سے دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں اور یہی اصول ملکی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران کی اصل طاقت اللہ پر ایمان، عوام کی حمایت اور ملک کی قیادت پر اعتماد میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق یہی عوامل ایران کو مختلف سیاسی، سفارتی اور علاقائی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
بزشكيان: صمود الشعب الإيراني جلب العزّة للبلاد في العالم الإسلامي
اكد الرئيس الايراني مسعود بزشكيان مع أعضاء جماعة العلماء و المدرسين في حوزة العلمية بقم المقدسة ان صمود الشعب الإيراني جلب العزّة للبلاد في العالم الإسلامي.https://t.co/b83xqsLS7L pic.twitter.com/z0DOGbdo8e
— وكالة تسنيم للأنباء (@Tasnimarabic) June 30, 2026
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سفارت کاری کا مقصد تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے، لیکن یہ عمل قومی خودمختاری اور ایران کے قومی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے کرنا ایران کی پالیسی کا حصہ نہیں۔
ایرانی حکام مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وہ بین الاقوامی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ باہمی احترام اور مساوی حیثیت کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یکطرفہ مطالبات یا دباؤ پر مبنی سفارت کاری دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔
صدر پزشکیان کے تازہ بیان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے قومی حقوق اور قومی مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح رہے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران سفارتی روابط جاری رکھے گا، تاہم اپنی خودمختاری، اصولوں اور عوامی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔