میانمار جیڈ کان لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ تقریباً 15 افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق شدید مون سون بارشوں کے باعث کاچن ریاست میں ایک غیر فعال جیڈ کان کے ملبے کا ڈھیر اچانک منہدم ہو گیا، جس کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حادثہ اتوار کی شب ہپاکانت ٹاؤن شپ میں پیش آیا، جہاں تقریباً 20 افراد پرانی کان سے جیڈ کے ٹکڑے تلاش کر رہے تھے۔ اچانک ملبے کا بڑا حصہ گرنے سے متعدد افراد اس کے نیچے دب گئے۔
حکام نے بتایا کہ کئی روز سے جاری شدید بارشوں نے کان کے پرانے فضلے کے ڈھیروں کو غیر مستحکم کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ میانمار جیڈ کان لینڈ سلائیڈنگ ایسے مقام پر ہوئی جہاں غریب مزدور روزگار کی تلاش میں کانوں سے بچ جانے والے قیمتی پتھر ڈھونڈنے جاتے ہیں۔
کاچن ریاست دنیا میں اعلیٰ معیار کے جیڈائٹ پتھر کی سب سے بڑی پیداوار رکھنے والا علاقہ ہے، تاہم یہاں کان کنی کا شعبہ بڑی حد تک غیر منظم سمجھا جاتا ہے۔ معاشی مشکلات کے باعث ہزاروں افراد خطرناک حالات میں کانوں کے فضلے سے قیمتی پتھر تلاش کر کے اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔
یہ علاقہ گزشتہ چند برسوں سے میانمار میں جاری خانہ جنگی سے بھی متاثر ہے، جہاں مختلف مسلح گروہ اور سرکاری فورسز کان کنی کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق میانمار جیڈ کان لینڈ سلائیڈنگ جیسے حادثات میں کمزور نگرانی اور تنازع دونوں اہم عوامل ہیں۔
ہپاکانت میں مون سون کے موسم کے دوران اس نوعیت کے حادثات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ شدید بارشوں سے مٹی اور کانوں کے فضلے کے ڈھیر غیر مستحکم ہو جاتے ہیں، جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حکام نے شہریوں کو غیر محفوظ کان کنی والے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ تازہ میانمار جیڈ کان لینڈ سلائیڈنگ نے ایک بار پھر کان کنوں کی حفاظت اور کان کنی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔