امریکہ ایران دوحہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کیونکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ اس کا تکنیکی وفد قطر جا رہا ہے، لیکن امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہوئے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ میزائل حملوں نے عارضی جنگ بندی کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دوحہ میں موجود ایرانی وفد کا دورہ امریکی وفد سے متعلق نہیں اور آنے والے دنوں میں واشنگٹن کے ساتھ کوئی ملاقات شیڈول نہیں ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور اپنے مشیر جیرڈ کشنر کو امریکی وفد کی قیادت سونپی ہے۔
امریکہ ایران دوحہ مذاکرات سے متعلق اختلافات اس جنگ بندی کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں جو 17 جون کو طے پانے والے معاہدے کے تحت قائم ہوئی تھی۔ اس معاہدے میں دونوں ممالک نے جنگ بندی کو وسعت دینے، ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کرنے اور مستقل امن کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم پیش رفت سست رہی ہے۔
جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ اس اہم بحری راستے کی سلامتی اب بھی علاقائی سفارت کاری کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر دوحہ میں کوئی ملاقات ہوتی بھی ہے تو اس کا مرکز آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا اور بحری سلامتی کو بہتر بنانا ہوگا۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی اور ایرانی تکنیکی وفود قطر اور پاکستان کے ثالثوں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کر سکتے ہیں، جو امریکہ ایران دوحہ مذاکرات کے وسیع تر عمل کا حصہ ہوں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوحہ میں متوقع ملاقات اہم بھی ثابت ہو سکتی ہے اور شاید نہ بھی ہو۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ادھر امریکی کانگریس کو بھی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، تاہم اس پر سیاسی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آئیں۔
اسی دوران ایران نے اعلان کیا کہ قطر میں منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر ایران کو جاری کیے جائیں گے۔ صدر مسعود پزشکیان نے اسے ایرانی عوام کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ ایران دوحہ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی، سفارت کاری اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔