اسرائیلی آبادکاری پر پاکستان کا سلامتی کونسل سے مطالبہ اس وقت ایک بار پھر سامنے آیا جب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، ہی مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی واحد ضمانت ہے۔ انہوں نے اس مؤقف کو پاکستان کی مستقل خارجہ پالیسی کا حصہ قرار دیا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی مجموعی صورتحال کا جامع جائزہ لینا چاہیے اور اسرائیل کو فوری طور پر تمام آبادکاری سرگرمیاں روکنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاری پر پاکستان کا سلامتی کونسل سے مطالبہ بین الاقوامی قانون کے احترام اور امن کے قیام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
پاکستان نے اسرائیل سے فلسطینی زمینوں کے الحاق، گھروں کی مسماری، جبری بے دخلی اور آبادی کی منتقلی روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پاکستانی مندوب نے فلسطینی شہریوں کو آبادکاروں کے تشدد سے تحفظ فراہم کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جبری نقل مکانی کی ہر کوشش کو مسترد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
The ultimate goal is the end of Israeli occupation of the Occupied Palestinian Territories (OPT). The establishment of an independent, sovereign, and contiguous State of Palestine on pre-1967 borders, with Al-Quds and Al-Sharif as its capital, remains the only guarantee for…
— Asim Iftikhar Ahmad, PR of Pakistan to the UN (@PakistanPR_UN) June 30, 2026
غزہ کی انسانی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد کچھ بہتری آئی ہے، لیکن حالات اب بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور صفائی کی شدید قلت برقرار ہے جبکہ 90 فیصد سے زائد آبادی انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔ اسرائیلی آبادکاری پر پاکستان کا سلامتی کونسل سے مطالبہ انسانی امداد کے مؤثر تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ فلسطینی اتھارٹی کی روکی گئی آمدن فوری طور پر جاری کی جائے۔ اس کے ساتھ غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے اور متعلقہ سلامتی کونسل قرارداد پر مکمل عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پیش آنے والے واقعات الگ الگ نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی آبادکاری اور تشدد علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے اور عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔