جنوبی افریقہ میں تارکین وطن مخالف مظاہرے کے خدشے کے باعث منگل کو ملک کے کئی بڑے شہروں میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔ ممکنہ تشدد کے پیش نظر متعدد کاروباری مراکز بند رہے، عوامی ٹرانسپورٹ محدود ہو گئی اور بہت سے شہری گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے رہے، جبکہ سکیورٹی فورسز کو مختلف علاقوں میں تعینات کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ہزاروں غیر ملکی شہری پہلے ہی متاثرہ علاقوں سے نکل گئے، جبکہ متعدد افراد اپنے کام پر بھی نہیں پہنچے۔ مظاہرین کی جانب سے غیر قانونی دستاویزات رکھنے والے تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن نے مختلف افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا۔
حکام نے جوہانسبرگ، ڈربن اور دیگر شہروں میں پولیس اور فوج تعینات کی تاکہ ممکنہ بدامنی کو روکا جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم کسی کو تشدد، دھمکی، املاک کو نقصان پہنچانے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جنوبی افریقہ میں تارکین وطن مخالف مظاہرے کے باعث سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق بعض علاقوں میں مکان مالکان نے غیر ملکی کرایہ داروں کو عمارتیں خالی کرنے کا کہا تاکہ ممکنہ حملوں سے املاک کو محفوظ رکھا جا سکے۔ تارکین وطن کی نمائندہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد بھی خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
صدر سیرل رامافوسا نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن سے متعلق عوامی خدشات حقیقی ہیں اور ان پر توجہ دی جانی چاہیے، لیکن احتجاج کے نام پر کسی بھی شخص کو دھمکانا یا تشدد کرنا ہرگز قابل قبول نہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ اختلاف رائے کا اظہار قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے۔
جنوبی افریقہ نے گزشتہ دو برسوں کے دوران امیگریشن قوانین پر سختی کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کیا ہے، جبکہ سرحدوں پر لاکھوں غیر قانونی داخلے بھی روکے گئے ہیں۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں تارکین وطن مخالف مظاہرے امیگریشن کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے بھی جنوبی افریقہ میں تارکین وطن کے خلاف حملوں اور ہراسانی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ملک ماضی میں بھی کئی مرتبہ غیر ملکیوں کے خلاف پرتشدد واقعات کا سامنا کر چکا ہے، جس کے باعث افریقی ممالک نے اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جنوبی افریقی حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔