فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ترکیہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ترکیہ پہنچنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تزویراتی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک دفاع، تربیت، مشترکہ مشقوں اور سکیورٹی تعاون کے مختلف شعبوں میں مسلسل روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے دوطرفہ شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ترکیہ گزشتہ ماہ ترک بری فوج کے کمانڈر جنرل میٹن توکل کے پاکستان کے سرکاری دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دورے کے دوران جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں دونوں ممالک کی عسکری قیادت نے پیشہ ورانہ تعاون، علاقائی سکیورٹی اور دفاعی روابط کو مزید فروغ دینے پر گفتگو کی تھی۔
Chief of Defence Forces Field Marshal Syed Asim Munir arrives in Turkiye on two-day official visit. According to security sources, Field Marshal Asim Munir received a warm welcome upon his arrival in Turkiye. During the visit, the CDF will hold important meetings with… pic.twitter.com/uaVbQX8Tz4
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) July 13, 2026
اس ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور تزویراتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں افواج کے درمیان جاری دفاعی تعاون کو سراہا۔ انہوں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں قریبی عسکری رابطوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ترک بری فوج کے سربراہ نے اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی ملاقات کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے عسکری تعاون، ادارہ جاتی روابط اور مستقبل میں دفاعی اشتراک کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ ترک وفد نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور خطے میں امن کے لیے کردار کو سراہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی سفارت کاری، سکیورٹی تعاون اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس دورے سے مستقبل میں مشترکہ دفاعی منصوبوں اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون میں مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔