بھارت کے ایٹمی پلانٹ کا ڈیٹا لیک سامنے آنے کے بعد اہم تنصیبات کی سائبر سکیورٹی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بھارت کے سب سے بڑے کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق حساس دستاویزات ڈارک ویب پر جاری کر دی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق لیک ہونے والی معلومات میں مبینہ طور پر تنصیبات کے نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، اجلاسوں اور معائنوں کا ریکارڈ، آلات کے جائزے اور انشورنس دستاویزات شامل ہیں۔ ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معلومات ریلائنس گروپ سے وابستہ سسٹمز کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں، تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
تمل ناڈو میں واقع کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارت کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہے اور ملک میں جوہری توانائی کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس منصوبے کی توسیع بھارت کی توانائی حکمت عملی میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
ریلائنس گروپ نے تصدیق کی کہ ڈیٹا سینٹر فراہم کرنے والی کمپنی یوٹا کے سرورز پر موجود کچھ ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی تھی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا یا لیک ہونے والی فائلیں اصل ہیں یا نہیں۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق اگرچہ دستیاب دستاویزات بظاہر ایٹمی ری ایکٹر کے بنیادی نظام سے متعلق نہیں، لیکن معاون نظاموں، وینٹیلیشن، کولنگ سسٹمز، کنٹرول رومز اور سپلائرز سے متعلق معلومات بھی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ایسے ڈیٹا کا غلط استعمال حساس تنصیبات کی کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً آٹھ لاکھ اٹھاون ہزار فائلیں لیک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جن میں قریب انیس ہزار فائلیں زیادہ حساس قرار دی جا رہی ہیں۔ یونٹ 3 اور یونٹ 4 کی تعمیر جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ 2027 تک فعال ہو کر مجموعی طور پر دو ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے ایٹمی پلانٹ کا ڈیٹا لیک اہم انفراسٹرکچر کی سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ورلڈ لیکس اس سے قبل بھی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کر چکا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حساس اداروں کے لیے ڈیجیٹل تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔