بھارت برطانیہ تجارتی معاہدہ بدھ کے روز باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا، جس کے تحت ہزاروں اشیا پر درآمدی محصولات میں کمی کی جائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور خدمات کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت ملے گی۔ اس معاہدے کو دونوں معیشتوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے کے تحت بھارتی برآمد کنندگان کو برطانوی منڈی میں زیادہ تر مصنوعات پر فوری ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، جوتے، سمندری خوراک، جواہرات، زیورات اور پراسیسڈ فوڈ کی صنعتوں کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے والی بھارتی مارکیٹ تک وسیع رسائی حاصل ہوگی۔ معاہدے کے تحت گاڑیوں پر ٹیرف مرحلہ وار کم کیے جائیں گے جبکہ مالیاتی خدمات، تعلیم، انشورنس، سرکاری خریداری اور پیشہ ورانہ خدمات کے شعبوں میں بھی نئے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا کہ یہ معاہدہ تجارت، سرمایہ کاری اور جدت کے نئے دروازے کھولے گا۔ ان کے مطابق اس سے بھارتی کاروباری اداروں کو عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے میں مدد ملے گی اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
بھارتی وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں بھارت نے برطانیہ کو 13.44 ارب ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کیں جبکہ 11.68 ارب ڈالر کی درآمدات کیں۔ 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان خدمات کی تجارت کا حجم 35.44 ارب ڈالر رہا، جس میں بھارت کو تقریباً 7.9 ارب ڈالر کا سرپلس حاصل ہوا۔
بھارت برطانیہ تجارتی معاہدہ خدمات کے شعبے میں بھی بڑی وسعت فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، مالیاتی خدمات، تعلیم، کاروباری خدمات اور دیگر 137 ذیلی شعبوں میں رسائی آسان بنائی گئی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور ماہرین کے لیے عارضی سفری سہولیات بھی بہتر کی گئی ہیں۔
معاہدے کے ساتھ ایک ڈبل کنٹریبیوشن کنونشن بھی نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت اہل بھارتی پیشہ ور افراد اور ان کے آجر برطانیہ میں پانچ سال تک نیشنل انشورنس شراکت سے مستثنیٰ رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔