میانمار کشتی حادثہ

اقوام متحدہ کا انتباہ، میانمار کے قریب کشتی حادثات میں 500 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ

میانمار کشتی حادثہ ایک بڑے انسانی المیے کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جہاں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ میانمار کے ساحل کے قریب دو کشتیوں کے ڈوبنے کے نتیجے میں 500 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں کشتیوں میں زیادہ تر روہنگیا مہاجرین سوار تھے، جو محفوظ زندگی کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر پر روانہ ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے اداروں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں میانمار کے ساحل کے قریب دو کشتیوں کے الٹنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دونوں کشتیوں میں مجموعی طور پر 500 سے زائد افراد سوار تھے، تاہم حادثات کی سرکاری تصدیق اور ہلاکتوں کی درست تعداد تاحال سامنے نہیں آ سکی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں کشتیاں جون کے آخر میں میانمار کی جنگ سے متاثرہ ریاست راکھائن سے روانہ ہوئی تھیں۔ ان میں سوار بیشتر افراد اقلیتی مسلم روہنگیا برادری سے تعلق رکھتے تھے، جو برسوں سے تشدد، بے دخلی اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق بعض مسافر بنگلادیش کے کاکس بازار میں قائم مہاجر کیمپوں سے بھی روانہ ہوئے تھے، جہاں 10 لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین محدود وسائل اور مشکل انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بہتر مستقبل کی امید میں کئی خاندان خطرناک سمندری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

مشترکہ بیان میں بتایا گیا کہ ایک کشتی، جس میں تقریباً 250 افراد سوار تھے، روانگی کے کچھ ہی دیر بعد لاپتا ہو گئی۔ دوسری کشتی، جس میں تقریباً 280 افراد موجود تھے، 8 جولائی کو میانمار کے ایئیرواڈی ساحل کے قریب ڈوبنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے واضح کیا کہ ان واقعات اور ممکنہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی ابھی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ اداروں نے مزید کہا کہ یہ سفر ایسے موسم میں کیا گیا جب سمندر میں سفر پہلے ہی انتہائی خطرناک ہوتا ہے، جبکہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب نے خطرات میں مزید اضافہ کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین