جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ کا 59واں سالانہ اجلاس منگل کو فلپائن کے شہر منیلا میں شروع ہوگیا۔ اجلاس میں خطے کو درپیش سکیورٹی، اقتصادی اور سفارتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلپائن کی وزیر خارجہ ما تھیریسا پی لازارو نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں رکن ممالک کو اتحاد، مشترکہ ذمہ داری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث اجتماعی فیصلوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے فلپائن کی 2026 کی چیئرمین شپ کے نعرے "Navigating Our Future, Together” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم کو مشترکہ وژن کے ساتھ مستقبل کی سمت متعین کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے پیچیدہ علاقائی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
لازارو نے معاہدۂ دوستی و تعاون (Treaty of Amity and Cooperation) کی 50ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خودمختاری کے احترام، عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصول آج بھی تنظیم کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں کوئی بھی ملک تنہا چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
اجلاس میں جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم کے سیاسی، سلامتی، اقتصادی اور سماجی تعاون سے متعلق شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزرائے خارجہ اپنی سفارشات نومبر میں ہونے والے آسیان سربراہی اجلاس میں پیش کریں گے۔
ہفتہ بھر جاری رہنے والے اجلاس میں میانمار میں امن عمل کی بحالی، جنوبی بحیرۂ چین میں ضابطۂ اخلاق پر چین کے ساتھ مذاکرات، علاقائی انضمام، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارتی راستوں کو درپیش چیلنجز بھی اہم موضوعات ہوں گے۔
24 جولائی تک جاری رہنے والے ان اجلاسوں میں آسیان کے مکالماتی شراکت دار، آسیان پلس تھری، ایسٹ ایشیا سمٹ اور آسیان ریجنل فورم کے اجلاس بھی منعقد ہوں گے۔ ان میں امریکہ، چین، روس، جاپان، بھارت اور یورپی یونین کے نمائندے بھی علاقائی اور عالمی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔