فرانس اور اسپین کے جنگلات میں لگی شدید آگ مسلسل پھیلتی جا رہی ہے، جس کے باعث فائر فائٹرز کو صورتحال پر قابو پانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باعث آگ بجھانے کی کارروائیاں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں یورپی ممالک میں بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مکمل طور پر آگ پر قابو پانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
فرانس میں جنگلاتی آگ نے بڑے رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق آگ کا پھیلاؤ دارالحکومت پیرس کے رقبے سے کئی گنا زیادہ علاقے تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث تقریباً 2 لاکھ 25 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔
حکام کے مطابق فرانس کے جنوب مغربی جنگلات میں یہ آگ شدید ہیٹ ویو کے دوران شروع ہوئی، جہاں مسلسل بلند درجہ حرارت اور خشک ماحول نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔
دوسری جانب اسپین میں بھی جنگلاتی آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ دارالحکومت میڈرڈ کے نواحی علاقوں اور ویلنشیا کے خطے میں آگ کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اسپین میں حکام نے تقریباً 80 ہزار افراد کو انخلا کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ مزید 30 ہزار افراد کو احتیاطی طور پر گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ وہ دھوئیں اور خطرناک حالات سے محفوظ رہ سکیں۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ ملک کو محض چند الگ الگ آگ کے واقعات کا نہیں بلکہ ایک بڑی ماحولیاتی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
فرانس اور اسپین میں جاری جنگلاتی آگ یورپ میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی خطرات کی ایک بڑی مثال بن چکی ہے۔ امدادی ادارے اور فائر فائٹرز مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں تاکہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور متاثرہ آبادیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔