پی سی بی فٹنس پالیسی

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے نئی فٹنس پالیسی متعارف کرا دی

پی سی بی فٹنس پالیسی کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2026-27 کے ڈومیسٹک سیزن کے لیے تمام ڈومیسٹک کرکٹرز کا نیا فٹنس ٹیسٹنگ نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں یکساں فٹنس معیار قائم کرنا اور کھلاڑیوں کو جدید بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔

پی سی بی کے مطابق یہ پالیسی ڈائریکٹر اسپورٹس اینڈ ایکسرسائز میڈیسن جاوید مغل نے تیار کی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ نیا فریم ورک سادہ، قابل اعتماد، مضبوط اور ہر سطح پر یکساں انداز میں نافذ کیے جانے کے قابل بنایا گیا ہے۔

یہ نظام پورے 2026-27 ڈومیسٹک سیزن کے دوران نافذ رہے گا اور اس کا اطلاق تمام ریجنل، ڈیپارٹمنٹل، ضلعی اور زونل ٹیموں پر ہوگا۔ کھلاڑیوں کی عمر اور مقابلے کی سطح کے مطابق انہیں دو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلے درجے میں 20 ریجنل ٹیموں، آٹھ فرسٹ کلاس ڈیپارٹمنٹل ٹیموں اور 25 سے زائد گریڈ ٹو ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے کھلاڑی شامل ہوں گے۔ انہیں 11 فٹنس ٹیسٹ دینا ہوں گے جن میں مجموعی طور پر 17 اسکورنگ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

دوسرے درجے میں سینئر ضلعی ٹیمیں، انڈر 19 ضلعی ٹیمیں اور ریجنل انڈر 15 اور انڈر 17 ٹیمیں شامل ہیں۔ ان کھلاڑیوں کے لیے آٹھ فٹنس ٹیسٹ مقرر کیے گئے ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ 12 اسکورنگ مواقع ہوں گے تاکہ نوجوان کھلاڑی بہتر جسمانی معیار حاصل کر سکیں۔

پی سی بی کے مطابق پہلے درجے کے کھلاڑی سات ریڈ اسکورز کے باوجود کامیاب قرار دیے جا سکتے ہیں، جبکہ آٹھ یا اس سے زیادہ ریڈ اسکورز پر انہیں ایک مرتبہ دوبارہ ٹیسٹ دینا ہوگا۔ دوسرے درجے کے کھلاڑی چھ یا اس سے زیادہ ریڈ اسکورز پر ناکام تصور کیے جائیں گے۔ کامیاب کھلاڑیوں کا تقریباً چھ ماہ بعد دوبارہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ ان کی فٹنس میں بہتری کو جانچا جا سکے۔

تمام فٹنس ٹیسٹ پی سی بی سے منظور شدہ اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچز کی نگرانی میں ہوں گے، جبکہ نتائج نیشنل کرکٹ اکیڈمی اور بورڈ کے میڈیکل اینڈ اسپورٹس سائنس ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے جائیں گے۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ نئی فٹنس پالیسی سے کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ نظام کا معیار مزید بلند ہوگا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین