آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق عمان نے ایران کو ایک نئی علاقائی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کو مشترکہ تعاون کے ذریعے محفوظ بنانا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک خلیجی ذریعے نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت کسی ایک ملک کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا بلکہ علاقائی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اس تجویز کو خطے کے متعدد ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ منصوبہ آبنائے ملاکا کے ماڈل سے متاثر ہے، جہاں اس راستے کو استعمال کرنے والے رضاکارانہ بنیاد پر فنڈز فراہم کرتے ہیں تاکہ بحری رہنمائی، ماحولیاتی تحفظ اور تلاش و بچاؤ کی سرگرمیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کی مہم عارضی طور پر روکنے کے بعد سفارتی حل کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ اس تبدیلی سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی کی توقع بھی پیدا ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مثبت مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے کا امکان موجود ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز عمان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی استحکام، سفارتی تعاون اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنا علاقائی امن کے لیے ضروری ہے۔
اگر عمان کی تجویز پر اتفاق ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایک نئی علاقائی حکمت عملی سامنے آ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا نظام خلیجی کشیدگی میں کمی، عالمی توانائی کی محفوظ ترسیل اور طویل مدتی علاقائی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔