کریملن فوجی آپریشن کے حوالے سے روس نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اس کی کامیابی ناگزیر ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے یوکرین پر مختلف ممالک میں مبینہ سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ روس اپنی سکیورٹی کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔
ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیمتری پیسکوف نے دعویٰ کیا کہ کیف حکومت کی مبینہ کارروائیوں کا دائرہ وقت کے ساتھ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے عراق میں مبینہ طور پر یوکرینی جنگجوؤں کی سرگرمیوں سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ روس ان پیش رفت کو خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث سمجھتا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوکرین اس سے قبل جرمنی میں نارڈ اسٹریم گیس پائپ لائن دھماکوں، قازقستان میں کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور ایک ایرانی مال بردار جہاز پر حملے میں بھی ملوث رہا ہے۔
دیمتری پیسکوف کے مطابق ان مبینہ واقعات سے روس کے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ اس کے خصوصی فوجی آپریشن کے اہداف کا مکمل حصول ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اس کارروائی کو اپنی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
دوسری جانب یوکرین اس سے قبل روس کی جانب سے عائد کیے جانے والے دہشت گردی اور دیگر الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ کریملن کی جانب سے کیے گئے حالیہ دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان سکیورٹی صورتحال، فوجی کارروائیوں اور مختلف واقعات پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ سفارتی کوششوں کے باوجود تنازع کے حل میں نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ عالمی سیاست اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں جبکہ عالمی برادری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔