جاپان زلزلہ

جنوبی جاپان میں 7.1 شدت کا طاقتور زلزلہ، بڑے پیمانے پر تباہی

جاپان زلزلہ منگل کے روز جنوبی صوبہ کوماموتو میں 7.1 شدت کے طاقتور جھٹکوں کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنا۔ زلزلے کے بعد بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، سڑکیں پھٹ گئیں اور ایک شاپنگ مال میں دھماکے کے بعد متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے کہا کہ حکام متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ مختلف علاقوں میں زخمیوں، آگ لگنے، عمارتوں کے گرنے، سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جاپان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق تقریباً تین لاکھ افراد کو انخلا مراکز جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے 3,600 فوجی اہلکار بھی تعینات کیے ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کا عمل تیز کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد ایون شاپنگ مال میں ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں کئی افراد اندر پھنس گئے۔ پولیس نے متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ مقام پر تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی زلزلے کے فوراً بعد تمام ملازمین اور خریداروں کو باہر نکال لیا گیا تھا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ایک اسپتال میں 50 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد دی گئی جبکہ تیز رفتار ٹرین میں سوار کئی مسافر بھی زخمی ہوئے۔ مختلف عمارتوں میں آگ لگنے، سڑکوں میں گہری دراڑیں پڑنے اور پروازوں کی معطلی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ کوماموتو ایئرپورٹ نے عارضی طور پر اپنا رن وے بند کر دیا۔

ٹی ایس ایم سی، سونی اور فوجی فلم سمیت کئی بڑی کمپنیوں نے احتیاطی اقدام کے طور پر اپنے ملازمین کو پلانٹس سے نکال لیا۔ تقریباً 48 ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہوئی جبکہ موبائل فون سروسز بھی متاثر رہیں۔ جاپانی نیوکلیئر ریگولیٹری ادارے نے بتایا کہ قریبی ایٹمی بجلی گھروں میں کسی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع نہیں ملی۔

جاپان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے تک مزید شدید آفٹر شاکس اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر سونامی وارننگ جاری کی گئی تھی، تاہم بعد میں اسے واپس لے لیا گیا۔ زلزلے سے تاریخی کوماموتو قلعے کو بھی مزید نقصان پہنچا، جو 2016 کے تباہ کن زلزلے میں بھی شدید متاثر ہوا تھا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین