ٹرمپ ایران بیان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکہ "بہت مضبوط پوزیشن” میں ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایران کے بیشتر پلوں کو تباہ اور ایک ہی دن میں بجلی گھروں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کوئی کارروائی فی الحال نہیں کی گئی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ بہت سے لوگ انہیں اس نوعیت کی فوجی کارروائی کی منظوری دینے کا مشورہ دے رہے ہیں، لیکن وہ ایسے فیصلے کے ممکنہ انسانی اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔
ٹرمپ کے مطابق اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر وسیع حملے کیے گئے تو لاکھوں افراد بجلی اور آمدورفت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو "انتہائی نازک توازن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے میں انسانی پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے امریکی فوجی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ممکن ہوا تو وہ ایسی کارروائی سے گریز کرنا پسند کریں گے۔ ان کے مطابق کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنا اور صورتحال کو قابو میں رکھنا زیادہ بہتر راستہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ سفارتی رابطوں اور دونوں ممالک کے سرکاری بیانات نے خطے کی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی یا عسکری پیش رفت مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔