پاکستانی پاسپورٹ رینکنگ تازہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں ایک درجے تنزلی کے بعد 101ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے، جس کے بعد پاکستانی پاسپورٹ دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ برقرار ہے۔ نئی درجہ بندی منگل کو جاری کی گئی۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا کے 199 پاسپورٹس کا 227 سفری مقامات کے حوالے سے جائزہ لیتا ہے۔ درجہ بندی اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ کسی ملک کے شہری کتنے ممالک میں پیشگی ویزا کے بغیر، ویزا آن ارائیول یا الیکٹرانک سفری اجازت کے ذریعے داخل ہو سکتے ہیں۔
تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری اب 29 مقامات تک پیشگی ویزا کے بغیر یا آسان سفری سہولت کے ذریعے رسائی رکھتے ہیں، جبکہ مئی میں یہ تعداد 30 تھی۔ اسی کمی کے باعث پاکستان کی عالمی درجہ بندی 100ویں سے گر کر 101ویں نمبر پر آ گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کئی برسوں سے دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل رہا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر اس کی پوزیشن 2021 کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے، جب پاکستان کی درجہ بندی 113ویں تھی۔ مختلف برسوں میں یہ 107ویں، 109ویں اور 100ویں نمبر پر بھی رہا۔
ہینلے انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو متعدد ممالک میں ویزا فری، ویزا آن ارائیول یا الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن کی سہولت حاصل ہے۔ تاہم رواں سال کیپ وردے، موزمبیق اور قطر نے پاکستانی شہریوں کے لیے اپنی آسان ویزا سہولیات ختم کر دی ہیں، جس سے رسائی رکھنے والے مقامات کی تعداد کم ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان سے نیچے صرف شام، عراق اور افغانستان کے پاسپورٹس موجود ہیں، جبکہ یمن ایک درجہ اوپر آ گیا ہے۔ دوسری جانب سنگاپور ایک مرتبہ پھر دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار پایا، جبکہ جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر رہے۔
عالمی درجہ بندی سے واضح ہوتا ہے کہ مختلف ممالک کے شہریوں کو بین الاقوامی سفر کے حوالے سے یکساں سہولیات حاصل نہیں ہیں، اور پاسپورٹ کی طاقت سفری آزادی کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔