مراد علی شاہ

مراد علی شاہ: محسن نقوی کے بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے اور تمام آئینی معاملات اسی دائرہ کار میں طے ہونے چاہییں۔

کراچی میں مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جو لوگ موجودہ نظام کو ناکام قرار دیتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ایک بار تھر کا دورہ کریں تاکہ وہاں ہونے والی ترقی اور منصوبوں کا خود جائزہ لے سکیں۔

کانفرنس سے اپنے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس ہے، جس میں صنعت، جامعات اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا۔ ان کے مطابق کانفرنس کا مقصد بین الاقوامی تجربات سے سیکھنا، جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا اور معدنیات کے شعبے میں جدت لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے، تاہم اس شعبے کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معدنیات کا شعبہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 2008 میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جدید مائننگ فریم ورک متعارف کرایا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تھر کول کے دو بڑے بلاکس فعال ہیں اور تقریباً 2,640 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، جبکہ اس پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر 3,000 میگاواٹ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق تھر کے بلاکس سے سالانہ 15 ملین ٹن سے زائد کوئلہ نکالا جا رہا ہے، جبکہ مقامی کوئلے کے استعمال سے پاکستان کو ہر سال تقریباً 1.5 ارب ڈالر کے متبادل ایندھن کی بچت ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین