وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں غیر فعال پمز انجیوگرافی یونٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی۔
وزیراعظم نے کمیٹی کو معاملے کے تمام پہلوؤں کی جامع تحقیقات، حقائق کا تعین اور ذمہ دار افسران کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی اپنی رپورٹ جلد از جلد پیش کرے گی۔
تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کریں گے۔ کمیٹی میں نیشنل ہیلتھ سروسز ڈویژن کے سیکریٹری اور آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور پمز سے وابستہ طبی ماہرین بھی شامل ہوں گے۔
پمز انجیوگرافی یونٹ کی تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا اسپتال کے پاس 2022 سے سی ٹی کورونری انجیوگرافی کرنے کی تکنیکی صلاحیت موجود تھی یا نہیں۔ ضروری آلات، سافٹ ویئر اور عملے کی دستیابی بھی دیکھی جائے گی۔
کمیٹی 2022 سے پمز میں ہونے والے طریقہ علاج اور ٹیسٹوں کا ریکارڈ بھی جانچے گی، جس میں ان کی تعداد، تاریخ اور نوعیت شامل ہوگی۔ کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان رابطے اور مریضوں کے ریفرل نظام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
تحقیقات میں ان الزامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا مریضوں کو معمول کے مطابق نجی تشخیصی مراکز بھیجا جاتا رہا اور کیا کسی مخصوص نجی مرکز کو ترجیح دی گئی۔ نجی مراکز کی جانب منتقل ہونے والی ممکنہ آمدنی کا بھی تعین کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔ کمیٹی کو حقائق سامنے لانے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔