پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے کو بھی نظر انداز کیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ عدالت کی جانب سے عمران خان کو شفا اسپتال لے جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق شفا اسپتال کے باہر پی ٹی آئی کا کوئی کارکن موجود نہیں تھا، اس لیے سکیورٹی یا سیاسی کارکنوں کی موجودگی کو بنیاد بنا کر فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا مؤقف درست نہیں۔
شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے مکمل طبی ٹیسٹ نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق صرف بلڈ پریشر چیک کیا گیا اور آنکھ میں ایک انجیکشن لگایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مکمل طبی معائنہ نہیں ہوا تو حکومت سپریم کورٹ کے سامنے کس نوعیت کی میڈیکل رپورٹ پیش کرے گی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی ایسی رپورٹ کو قبول نہیں کرے گی جس میں عمران خان کی صحت کی مکمل صورتحال سامنے نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
شفیع جان نے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب پی ٹی آئی کے اندر مذاکرات کے حامی رہنے والے بعض افراد بھی مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کے بعد پارٹی میں سڑکوں پر احتجاج کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ معاملہ کسی رابطے یا مذاکرات کا نتیجہ نہیں تھا۔ شفیع جان کے بقول حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کو نظر انداز کیا، جس سے نہ صرف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا سوال پیدا ہوا بلکہ عمران خان کی صحت بھی ایک اہم سیاسی اور قانونی مسئلہ بن گئی۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اب توہین عدالت کی کارروائی کی جانب جانے پر غور کرے گی۔ عمران خان کے طبی معائنے، عدالتی حکم پر عملدرآمد اور ممکنہ احتجاج کے معاملے نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔