چینی برآمد

حکومت کا 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن درآمدی چینی برآمد کرنے کا فیصلہ

حکومت نے درآمد کی گئی 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے، اس لیے اضافی اسٹاک کو بیرونِ ملک فروخت کرنے سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں پر دباؤ نہیں پڑے گا۔

جیونیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملک میں چینی کی دستیابی ضرورت کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق حکومت مقامی صارفین کی ضرورت متاثر کیے بغیر اضافی چینی برآمد کرنا چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بہتر ہوئی ہیں، جس کے باعث پاکستان کے پاس موجود اسٹاک کو مناسب قیمت پر فروخت کرنے کا موقع پیدا ہوا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس طریقے سے درآمد شدہ چینی کے موجودہ ذخیرے سے بہتر مالی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

تاہم حکومت کے اس فیصلے کو عوام پاکستان پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں چینی سے متعلق پالیسی بار بار تبدیل ہونے سے عوام اور مارکیٹ دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

مفتاح اسماعیل کے مطابق پہلے چینی برآمد کرکے مصنوعی قلت پیدا کی گئی، جس کے بعد ضرورت سے زیادہ چینی درآمد کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب اسی درآمد شدہ چینی کو دوبارہ برآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کے باوجود مقامی مارکیٹ میں طلب پوری کرنے کے لیے کافی ذخیرہ موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین