واشنگٹن: امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا کی کارروائی روکنے کی پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا۔ متاثرہ ممالک میں پاکستان، بنگلادیش، ایران اور روس سمیت متعدد ریاستیں شامل تھیں۔
نیویارک کی ڈسٹرکٹ جج نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کی گئی ویزا پالیسی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔ عدالت نے پالیسی کو وفاقی امیگریشن قانون سے متصادم بھی قرار دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مذکورہ پالیسی جنوری 2026 میں نافذ کی تھی، جس کے تحت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا کے اجرا کا عمل روک دیا گیا تھا۔ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ ان ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے امریکا میں سرکاری مراعات پر انحصار کرنے کا خطرہ موجود ہے۔
پالیسی کے تحت جنوبی ایشیا سمیت مختلف خطوں کے ممالک متاثر ہوئے تھے۔ پاکستان اور بنگلادیش کے علاوہ ایران اور روس بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل تھے، جن کے شہریوں کی امیگرنٹ ویزا درخواستوں پر کارروائی روک دی گئی تھی۔
امریکی عدالت نے یہ فیصلہ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے دائر مقدمے میں سنایا۔ درخواست گزاروں نے حکومت کی جانب سے قومیت کی بنیاد پر ویزا کارروائی روکنے کے اقدام کو چیلنج کیا تھا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد متاثرہ ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا معاملات میں نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ تاہم دیگر امریکی امیگریشن قوانین اور الگ ویزا شرائط بدستور لاگو ہوسکتی ہیں، اس لیے ہر درخواست گزار کی صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔