شمالی کوریا میزائل لانچ کے بعد مشرقی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے جمعرات کو وونسان کے علاقے سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل مشرقی سمندر (بحیرہ جاپان) کی جانب داغا۔ اس پیش رفت کے بعد جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان نے صورتحال پر قریبی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ میزائل مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً پانچ بجے لانچ کیا گیا۔ فوجی حکام کے مطابق میزائل کی رینج، رفتار اور دیگر تکنیکی خصوصیات کا مشترکہ طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ممکنہ مزید لانچز کے پیش نظر نگرانی اور دفاعی تیاریوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
تازہ شمالی کوریا میزائل لانچ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیانگ یانگ نے جاپان کے دفاعی بجٹ اور فوجی صلاحیتوں میں اضافے پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے خبردار کیا کہ جاپان کی نئی دفاعی پالیسی خطے میں مزید فوجی اقدامات کو جنم دے سکتی ہے۔
جاپان کی وزارتِ دفاع نے بھی تصدیق کی کہ شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل جیسی شے لانچ کی گئی۔ تاہم بعد ازاں حکام نے واضح کیا کہ جاپانی سرزمین یا اس کے قریبی سمندری علاقوں میں کسی نقصان یا اثرات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ جاپان نے جنوبی کوریا اور امریکا کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
یہ میزائل تجربہ جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ سالانہ الچی فریڈم شیلڈ فوجی مشقوں سے قبل کیا گیا ہے۔ شمالی کوریا ماضی میں بھی ان مشقوں کو حملے کی تیاری قرار دیتا رہا ہے، جبکہ جنوبی کوریا اور امریکا کا مؤقف ہے کہ ان مشقوں کا مقصد صرف دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانا اور علاقائی استحکام برقرار رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق شمالی کوریا میزائل لانچ کے اس اقدام کے پیچھے اسٹریٹجک مقاصد بھی ہو سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا ممکنہ سفارتی سرگرمیوں سے قبل اپنی میزائل صلاحیت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کو بھی اس تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اگرچہ اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم شمالی کوریا میزائل لانچ نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ متعلقہ ممالک صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔