شدید کووڈ خاموش وائرس

شدید کووڈ سے خاموش وائرس دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں، تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شدید کووڈ خاموش وائرس کے دوبارہ فعال ہونے کا عمل سنگین کورونا انفیکشن کے دوران دیکھا جا سکتا ہے، جس کا تعلق جسم میں زیادہ سوزش اور خراب طبی نتائج سے ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے دریافت کیا کہ بعض وائرس جو عام حالات میں مدافعتی نظام کے باعث غیر فعال رہتے ہیں، شدید بیماری کے دوران دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر میں شائع ہوئی، جس میں امریکا کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج 1,150 سے زائد کووڈ مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں شامل افراد ویکسین حاصل نہیں کر چکے تھے اور ان کا انفیکشن کورونا وائرس کی نئی اقسام کے عام ہونے سے پہلے ہوا تھا۔ سائنس دانوں نے خون، ناک کے نمونوں اور وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں کے پھیپھڑوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔

تحقیق کے دوران تقریباً 48 فیصد مریضوں میں کم از کم ایک ایسے وائرس کی دوبارہ سرگرمی کے شواہد ملے جو پہلے سے جسم میں موجود تھا۔ ان وائرسز میں ہرپس وائرس خاندان کے ارکان، جن میں ایپسٹین بار وائرس، سائٹو میگالو وائرس اور ہرپس سمپلکس وائرس شامل ہیں، جبکہ اینیلو وائرس بھی شامل تھے۔

سائنس دانوں نے بتایا کہ مختلف وائرس بیماری کے مختلف مراحل میں فعال ہوئے۔ ایپسٹین بار وائرس زیادہ تر اسپتال داخلے کے ابتدائی دنوں میں دیکھا گیا، جبکہ سائٹو میگالو وائرس اور ہرپس سمپلکس وائرس بعد کے مراحل میں زیادہ نمایاں ہوئے۔ ان وائرسز کی سرگرمی کو شدید بیماری اور جسم میں بڑھتی ہوئی سوزش سے منسلک کیا گیا۔

تحقیق میں شدید کووڈ خاموش وائرس کے دوبارہ فعال ہونے کے ساتھ مدافعتی نظام میں تبدیلیاں بھی دیکھی گئیں۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق ثابت نہیں کرتی کہ دوبارہ فعال ہونے والے وائرس ہی شدید کووڈ یا طویل کووڈ کی براہ راست وجہ بنتے ہیں۔ مزید تحقیق کے ذریعے اس تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

تحقیق کے نتائج سے طویل کووڈ کی علامات کے ساتھ ممکنہ تعلق پر بھی توجہ دی گئی۔ سائنس دانوں نے پایا کہ اینیلو وائرس کی سرگرمی بعض مریضوں میں تھکن اور جسمانی کمزوری جیسی طویل علامات سے منسلک تھی۔ یہ تعلق مریضوں کی عمر اور بیماری کی شدت جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا۔

ماہرین کے مطابق یہ تحقیق مستقبل میں ایسے طریقے تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے جن سے شدید کووڈ کے خطرے والے مریضوں کی شناخت بہتر ہو سکے۔ محققین کا کہنا ہے کہ خاموش وائرسز کی نگرانی علاج کے نئے راستے کھول سکتی ہے، تاہم اس کے لیے مزید طبی تحقیقات ضروری ہوں گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین