اوپیک پلس امارات کے اخراج کے بعد بھی مستحکم رہے گا، روس کے نائب وزیر اعظم Alexander Novak نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ ان کے بیان نے عالمی منڈی میں پائے جانے والے خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امارات کے اتحاد سے نکلنے کے باوجود اوپیک پلس امارات کے اخراج کے بعد بھی اپنا کام جاری رکھے گا اور تعاون برقرار رہے گا۔
متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں اتحاد چھوڑنے کا اعلان کیا، جس کے بعد گروپ کے اندر اختلافات کی باتیں سامنے آئیں۔ یہ ملک اس اتحاد کے بڑے تیل پیدا کرنے والوں میں شامل تھا۔
تاہم، روسی حکام نے واضح کیا کہ قیمتوں کی جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی کمی موجود ہے۔ طلب زیادہ اور رسد کم ہونے کی وجہ سے صورتحال مختلف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری مسائل اور لاجسٹک رکاوٹوں کی وجہ سے تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈی میں توازن بگڑ گیا ہے۔
اوپیک پلس، جو 2016 میں قائم ہوا، میں OPEC کے رکن ممالک اور ان کے اتحادی شامل ہیں۔ روس نے اس اتحاد میں رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اوپیک پلس امارات کے اخراج کے بعد بھی عالمی تیل کی منڈی میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر اس اتحاد کا برقرار رہنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔