بھارت ہیٹ ویو 2026 کے تحت محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مئی کے دوران ملک کے کئی حصوں میں شدید گرمی کی لہر معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت ہیٹ ویو 2026 کے اثرات مشرقی ساحلی علاقوں، ہمالیائی پہاڑی علاقوں کے دامن اور مہاراشٹرا و گجرات جیسے مغربی ریاستوں میں زیادہ محسوس ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درجہ حرارت پہلے ہی معمول سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شہری علاقوں میں کولنگ سسٹمز کے استعمال نے دباؤ بڑھا دیا ہے۔
بھارت ہیٹ ویو 2026 موسمی تبدیلیوں کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے کیونکہ بارشوں کا نظام غیر متوازن ہے۔ کچھ علاقوں میں بارش زیادہ ہونے کے باوجود گرمی کی شدت برقرار رہے گی۔
توانائی ماہرین کے مطابق بجلی کی طلب میں اضافہ مسلسل جاری ہے اور اگر ہیٹ ویو برقرار رہی تو پاور سسٹم پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عالمی موسمی تبدیلیاں اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں بھی صورتحال کو متاثر کر رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت ہیٹ ویو 2026 اگر جاری رہی تو صحت اور انفراسٹرکچر دونوں کے لیے چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔