ریاض ایئرپورٹ پر یمن کے حوثی گروپ کے ہفتے اور اتوار کے دوران ہونے والے مہلک حملوں کے بعد سعودی عرب کی پروازیں منسوخ کرنے کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔ متعدد عالمی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں یا پہلے سے عائد پابندیوں میں توسیع کر دی ہے۔ پیر کو جاری فضائی نوٹس کے مطابق ریاض ایئرپورٹ 17 اکتوبر 2026 تک بند رہے گا۔
یہ صورتحال خطے میں فضائی سفر کی وسیع تر مشکلات کے دوران سامنے آئی ہے، جو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد پیدا ہوئیں۔ سکیورٹی خدشات کے باعث ایئرلائنز اپنے شیڈول کا جائزہ لے رہی ہیں اور سعودی عرب سے منسلک مختلف فضائی راستوں پر آپریشنز تبدیل کر رہی ہیں۔
ایئر فرانس کے ایل ایم گروپ نے ریاض آنے اور جانے والی پروازوں کی معطلی اکتوبر کے اختتام تک بڑھا دی ہے۔ بھارتی ایئرلائن ایئر انڈیا نے ریاض کے لیے پروازیں 15 اکتوبر تک معطل کر دی ہیں، جبکہ اکاسا ایئر نے جدہ اور ریاض کی پروازیں 13 اکتوبر تک روک دی ہیں۔
کیتھے پیسیفک نے ہانگ کانگ سے دبئی اور ریاض کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ 31 جنوری 2027 تک مؤخر کر دیا ہے۔ امریکی ایئرلائن ڈیلٹا نے اٹلانٹا سے ریاض کے لیے مجوزہ پروازیں مارچ 2027 تک ملتوی کر دی ہیں۔
اتحاد ایئرویز نے ابوظبی اور ریاض کے درمیان تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ دمام اور جدہ کے لیے 10 پروازیں بھی 19 اکتوبر تک منسوخ رہیں گی۔ بحرین کی گلف ایئر نے 12 سے 17 اکتوبر تک ریاض آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ بھارتی ایئرلائن انڈیگو نے ریاض اور دمام کے لیے پروازوں کی منسوخی 15 اکتوبر تک بڑھا دی ہے۔
جرمنی کے لفتھانزا گروپ نے ریاض کے لیے تمام پروازیں 16 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں۔ فلپائن ایئرلائنز نے ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی 29 نومبر تک بڑھا دی ہے۔ قطر ایئرویز نے بھی ریاض اور دمام آنے اور جانے والی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، تاہم ان کی بحالی کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
سعودی عرب جانے یا متاثرہ ایئرپورٹس کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ایئرلائنز سے رابطہ کرکے پروازوں کی تازہ صورتحال معلوم کریں۔ مسافروں کو ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے پرواز کی تصدیق، ٹکٹ کی تبدیلی اور رقم کی واپسی سے متعلق پالیسی بھی چیک کرنی چاہیے۔ مختلف ایئرلائنز کی پابندیاں الگ الگ تاریخوں تک برقرار رہیں گی۔