علیمہ خان

علیمہ خان کا مؤقف: قابل قبول معاہدہ صرف آزاد عدلیہ اور شفاف انتخابات

سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ملک میں صرف وہی سیاسی معاہدہ قابل قبول ہوگا جس کے نتیجے میں آزاد عدلیہ بحال ہو اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات ان کے خاندان کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اڈیالہ جیل آنا جاری رکھیں گی تاکہ اس معاملے پر عوامی توجہ برقرار رہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا جمہوری نظام کے بنیادی ستون ہیں۔ ان کے مطابق مضبوط اور خودمختار ادارے ہی شفاف جمہوری عمل اور عوام کے اعتماد کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں علیمہ خان نے عمران خان اور سابق فوجی سربراہ کے درمیان مبینہ ملاقات کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی افواہیں سیاسی ماحول میں گرمی آنے پر اکثر پھیلائی جاتی ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ انہوں نے بیرسٹر گوہر خان سے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے دریافت کیا تھا۔ ان کے مطابق بعض یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، تاہم ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے عمران خان کے علاج اور طبی سہولیات کو ترجیح دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی انتظامات اور گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے علیمہ خان نے بعض انتخابی بے ضابطگیوں، سیاسی دباؤ اور پابندیوں پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے شفافیت اور سیاسی آزادی ضروری ہے۔

دوسری جانب سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی بنیادی ترجیح عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے عوام سے وفاقی بجٹ اور عمران خان کی صحت کے معاملات پر توجہ دینے کی اپیل کی۔

علیمہ خان نے اختتام پر کہا کہ آزاد عدلیہ اور شفاف انتخابات ہی پاکستان میں جمہوری استحکام کی ضمانت ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین