پاکستان کا آئل امپورٹ بل مالی سال 2025-26 میں نمایاں طور پر بڑھ کر 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے درآمدی اخراجات میں اضافہ کیا، جس سے ملکی معیشت پر اضافی دباؤ پیدا ہوا۔
سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر تقریباً 16.86 ارب ڈالر خرچ کیے۔ یہ رقم آئی ایم ایف کے 15.28 ارب ڈالر کے تخمینے سے کافی زیادہ رہی۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں بلند ہوئیں۔ درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان، اس صورتحال سے براہ راست متاثر ہوئے۔
آئی ایم ایف نے موجودہ مالی سال کے لیے پاکستان کے آئل امپورٹ بل کا تخمینہ 16.31 ارب ڈالر لگایا تھا، تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ نے درآمدی اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا۔
تیل کی بلند قیمتوں کا اثر صرف درآمدی بل تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، صنعت اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پیٹرولیم درآمدات میں سالانہ بنیاد پر 5.76 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صورتحال پاکستان کی درآمدی توانائی پر مسلسل انحصار کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری، توانائی کی بچت اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال سے مستقبل میں عالمی تیل قیمتوں کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ایسی حکمت عملی نہ صرف درآمدی بل کو محدود کرے گی بلکہ معیشت کو بھی زیادہ مستحکم بنانے میں مدد دے سکتی ہے.