اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد

عراقچی کی اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد پر تنقید، 11 ارب ڈالر خرچ ہونے کا دعویٰ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے گزشتہ تین سال کے دوران اسرائیل کے میزائل دفاع پر 11 ارب ڈالر خرچ کیے۔ انہوں نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا اور اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکی حمایت کے حجم پر سوال اٹھایا۔

عراقچی کے مطابق، اسرائیل کے دفاع کے دوران امریکا نے خود اسرائیل سے زیادہ میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز فائر کیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو میزائل حملوں سے بچانے کے لیے مالی اور فوجی بوجھ کا بڑا حصہ امریکی ٹیکس دہندگان نے برداشت کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار اسٹیفن سیملر کے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک امریکی افواج نے اسرائیل کے دفاع میں 609 میزائل انٹرسیپٹرز فائر کیے۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار پینٹاگون کی بجٹ دستاویزات اور دیگر ذرائع پر مبنی ہیں۔

عراقچی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کو غیر مساوی قرار دیتے ہوئے امریکی حمایت کی نوعیت پر سوالات اٹھائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ دونوں اتحادیوں کے درمیان فوائد اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر غور ہونا چاہیے۔ ان کے بیان میں اسرائیل کے لیے امریکی فوجی معاونت پر ایران کی تنقید نمایاں تھی۔

عراقچی کے بیان میں 11 ارب ڈالر کا دعویٰ گزشتہ تین سال کے دوران میزائل دفاع پر ہونے والے اخراجات سے متعلق ہے۔ میزائل انٹرسیپٹرز ایسے دفاعی ہتھیار ہوتے ہیں جو آنے والے راکٹوں یا میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ نظام اسرائیل کے فضائی دفاع میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

عراقچی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد پر بین الاقوامی بحث جاری ہے۔ امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کو فوجی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، جس میں مالی امداد، دفاعی سازوسامان اور فضائی و میزائل دفاعی نظاموں کی مدد شامل ہے۔

تاہم، رپورٹ میں اخراجات اور میزائل انٹرسیپٹرز سے متعلق اعداد و شمار عراقچی کے حوالے سے بیان کیے گئے ہیں، جنہوں نے اسٹیفن سیملر کے اندازوں کا حوالہ دیا۔ فراہم کردہ معلومات میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔ عراقچی کے بیان نے اسرائیل کے دفاع پر امریکی اخراجات اور امریکی افواج کے کردار سے متعلق بحث کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین