ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا سفارتکاری بحال کرنا ممکن ہے، تاہم اس کیلئے واشنگٹن کو دباؤ کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ انہوں نے یہ بیان جمعہ کو تہران میں قطر کے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد دیا۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ انہوں نے قطری وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کے ساتھ تعمیری اور تخلیقی مذاکرات کیے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سفارتکاری کو دوبارہ راستے پر لانا ناممکن نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے، جو مستقبل کی ایران امریکا سفارتکاری کیلئے اہم شرط ہے۔
عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کیلئے چند شرائط بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کو اعتماد بحال کرنا، احترام کے ساتھ بات کرنا، ایران کے حقوق تسلیم کرنا اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔
شیخ محمد کا تہران کا دورہ فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد قطر کے کسی وزیر خارجہ کا ایران کا پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع سفارتی کوششوں کے دوران ہوا ہے۔
قطری وفد نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ مذاکرات میں آبنائے ہرمز سے عارضی مشترکہ بحری راستہ قائم کرنے کی تجویز پر بات ہوئی۔
فریقین نے اہم بحری راستے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ تازہ مذاکرات میں قطر کا علاقائی سفارتکاری میں کردار نمایاں ہوا ہے۔ عباس عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران امریکا سفارتکاری دوبارہ شروع ہوسکتی ہے، تاہم تہران واشنگٹن سے پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہا ہے۔