برطانیہ شبیر احمد پاکستان حوالگی

برطانیہ کا شبیر احمد کی پاکستان حوالگی پر غور، کیس کا دوبارہ جائزہ

برطانیہ نے جنسی جرائم میں سزا یافتہ شبیر احمد کی پاکستان حوالگی کے معاملے پر پیش رفت شروع کر دی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق برطانوی حکام اس کیس کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر نے متعلقہ اداروں کو شبیر احمد کے کیس کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینا بتایا جا رہا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی مجرم کو اس کے آبائی ملک واپس بھیجنے کے لیے متعلقہ ملک کی رضامندی ایک اہم قانونی شرط ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے برطانوی حکام نے پاکستان سے باضابطہ رابطہ کیا ہے تاکہ آئندہ اقدامات قانون کے مطابق کیے جا سکیں۔

شبیر احمد کو 2012 میں جنسی جرائم کے مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔ اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد وہ حال ہی میں جیل سے رہا ہوا، جس کے بعد اس کی ممکنہ ملک بدری کا معاملہ دوبارہ زیرِ غور آ گیا۔

ماہرین کے مطابق برطانیہ میں غیر ملکی مجرموں کی ملک بدری کے فیصلے امیگریشن قوانین، عدالتی احکامات اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔ ہر کیس میں قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوتی ہے۔

اگر پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مطلوبہ قانونی شرائط پوری ہو جاتی ہیں تو شبیر احمد کی پاکستان حوالگی کے حوالے سے مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم اس مرحلے پر حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین