
امریکا میں خام تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
امریکا میں خام تیل کے ذخائر نمایاں حد تک کم ہو کر گزشتہ 45 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد توانائی سکیورٹی اور عالمی

امریکا میں خام تیل کے ذخائر نمایاں حد تک کم ہو کر گزشتہ 45 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد توانائی سکیورٹی اور عالمی

علی ایکسپریس 55 کروڑ یورو جرمانہ یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت اب تک کی سب سے بڑی مالی سزا بن گیا ہے۔ یورپی کمیشن نے پیر کو

عالمی تیل کی قیمتیں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایک بار پھر نمایاں اضافے کے ساتھ اوپر چلی گئیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے

پاکستان کا آئل امپورٹ بل مالی سال 2025-26 میں نمایاں طور پر بڑھ کر 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے
پاکستان ایران تجارت آئندہ تین سے پانچ برسوں میں 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے، اگر دونوں ممالک صنعتی تعاون کو فروغ دیں، بینکاری نظام بہتر بنائیں اور

سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان کو گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان بیرونی مالی معاونت کی مد میں 16 ارب ڈالر سے زائد رقم موصول ہوئی، جس سے ملک کی

حکومت نے نیشنل سیونگز منافع کی شرح میں کمی کرتے ہوئے مختلف قومی بچت اسکیموں کے لیے نئی شرحیں جاری کر دی ہیں۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس،

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل 87 ڈالر سے اوپر جانے کے بعد سرمایہ کاروں

تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں آئی