امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل 87 ڈالر سے اوپر جانے کے بعد سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ گئی، جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے ساتھ 87 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ توانائی کے تاجروں کا خیال ہے کہ خلیج میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔
خام تیل کے ساتھ قدرتی گیس اور دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتے خدشات ہیں، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس اہم بحری راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی توانائی کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان غالب رہا۔ امریکا میں ایس اینڈ پی 500، ناسڈیک اور ڈاؤ جونز دباؤ کا شکار رہے، جبکہ یورپ اور ایشیا کی بڑی مارکیٹوں میں بھی سرمایہ کار محتاط نظر آئے۔ البتہ تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں بہتری دیکھی گئی کیونکہ بلند قیمتوں سے ان کی آمدنی بڑھنے کی توقع ہے۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔ تیل 87 ڈالر سے اوپر برقرار رہنے کی صورت میں درآمدی بل میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں وسعت اور روپے پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ بھارت سمیت دیگر درآمدی معیشتیں بھی اسی نوعیت کے خدشات کا سامنا کر رہی ہیں۔