چین میں سیلاب اور شدید بارشوں نے متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طوفان میساک کے بعد آنے والے سیلاب کے باعث نہ صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا بلکہ مختلف جانوروں کے فارمز اور باڑوں کے ٹوٹنے سے سینکڑوں سانپ اور کئی مگر مچھ بھی رہائشی علاقوں میں پہنچ گئے۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی چین کے شہر ہینگژو سمیت مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال کے باعث شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پانی گھروں، سڑکوں اور زرعی علاقوں میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک جانوروں کی موجودگی نے بھی عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی سے متعدد سانپ فارمز کی حفاظتی دیواریں گر گئیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 900 سانپ باہر نکل گئے۔ ان میں سے کئی سانپ قریبی آبادیوں میں داخل ہوگئے، جبکہ کئی مگر مچھ بھی سیلابی پانی میں تیرتے ہوئے دیکھے گئے۔
رپورٹس کے مطابق فرار ہونے والے سانپوں میں بڑی تعداد زہریلے سانپوں کی ہے۔ مختلف مقامات پر سانپ کے کاٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ میڈیا نے ایک خاتون کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی ہے۔ ان دعوؤں کی تفصیلات مقامی حکام کی جانب سے مسلسل اپ ڈیٹ کی جا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز میں مبینہ طور پر سانپوں کو سیلابی پانی، سڑکوں اور بعض گھروں کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ دیگر ویڈیوز میں مگر مچھ اور بڑی تعداد میں بطخیں بھی پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیلاب سے متعلق مختلف حادثات میں اب تک 39 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی دوران ایک چڑیا گھر میں پانی داخل ہونے کے بعد دو زیبرے، ایک اونٹ، تین چھوٹے قد کے گھوڑے اور دو گدھے بھی اپنے باڑوں سے نکل گئے۔
حکام امدادی سرگرمیاں، ریسکیو آپریشن اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چین میں سیلاب نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ شدید موسمی حالات نہ صرف انسانی جانوں بلکہ جنگلی اور پالتو جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی سنگین چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔