امریکی فوج نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں تیاری مکمل کرنے کی ہدایت حاصل کی ہے۔ امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ممکنہ کارروائی کے لیے تیاری مکمل کرنے کا کہا ہے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی ایران کے خلاف لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ایکسیوس کے صحافی باراک راوید نے اسرائیلی نشریاتی ادارے این 12 کے لیے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کو یہ ہدایت چند روز قبل دی گئی۔ رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس اقدام کا مقصد فوج کو ممکنہ بڑے آپریشن کے لیے تیار رکھنا ہے۔ تاہم کسی فوری حملے یا کارروائی کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی شروع کرنے کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں ہوئی۔ آخری فیصلہ صدر ٹرمپ کو کرنا ہے اور فی الحال انہوں نے دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اس لیے فوجی تیاریوں کو فوری حملے کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔
امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق ممکنہ فوجی کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے بھی ہو سکتی ہے۔ ذرائع نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ کارروائی اسرائیل کے انتخابات سے قبل شروع ہو سکتی ہے، جو امریکی انتخابات سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ہوں گے۔ تاہم کارروائی کے وقت سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
اگر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ باراک راوید کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ حملوں میں ایران کے توانائی کے مراکز، بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایسے حملوں سے خطے کی سلامتی اور بنیادی سہولیات پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں امریکی فوجی تیاریوں نے خطے میں ممکنہ نئی صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں کو بڑھا دیا ہے۔ بڑے پیمانے پر کارروائی کی صورت میں مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی، توانائی کی ترسیل اور علاقائی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم فی الحال کسی نئی فوجی کارروائی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
اس وقت ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ایک ممکنہ اقدام ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ پینٹاگون کی جانب سے تیاری مکمل کرنے کی ہدایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج ممکنہ احکامات پر عمل کے لیے تیار رہنا چاہتی ہے۔ کارروائی ہوگی یا نہیں، اس کا فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے، جبکہ اس کے وقت اور ممکنہ دائرہ کار کے بارے میں صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔